بھارت کی سازشیں کوئی نئی بات نہیں ، فوٹو: فائل

بھارت کی سازشیں کوئی نئی بات نہیں ، فوٹو: فائل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر افغان ایلچی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کے دوران کراچی اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں ہندوستانی واقعات سے آگاہ کیا تھا۔

اس موقع پر وزیرخارجہ نے کالعدم تنظیم بی ایل کے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ اٹھایا اور اس کے خاتمے کے سلسلے میں کارروائی کی۔ اس واقعے میں زلزلے کے خلیل زاد کوٹ انڈیا کے سازشوں نے آگاہی دی اور جب ہندوستان میں داخلی انتشار بڑھتا رہا تو وہ دہشت گردی کا شکار رہا جس طرح مقبوضہ جموں اور کشمیر پر عالمی سطح پر توجہ دی جارہی تھی۔ پولوامہ کا ڈرامہ رچایا تھا۔

بھارت کے پاکستان کے خلاف سازشوں کی کوئی نئی بات نہیں ، قیام پاکستان ہی اس سے لڑتا ہے۔ 1965 کی جنگ میں ہزیمت اٹیکیشن کے بعد ہندوستان نے اندرون ملک سیاستدانوں اور تنظیموں کا پشت پناہی شروع کردی جو داخلہ سطح پر ملک میں انتشار اور عدم استحکام سے آگیا۔

ہی 1971 1971 1971 میں ہی سیاستدانوں کے تعاون سے مشرقی پاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنا پڑا ، اب ان کو دیکھیں حربوں اور ریشہ دوانیوں کو عملی جامعہ پہننے کی بات کی جا رہی تھی ، اس شام میں وہ کھیل رہے تھے جو اس کے مشرقی پاکستان میں تھا۔ شومئی قسمت سے یہاں تک کہ شرپسندوں کی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے جس کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں ایک ہی دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان میں جا ملتا ہے۔ افغانستان میں بارہا افغانستان کا واقعہ پیش آرہا ہے اور دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ چل رہا ہے لیکن کابل حکومت نے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔اب ایک بار پھر زلمے خلیل زاد سے ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی موجود تھے۔ بی ایل کے محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے جس سے ان کی توجہ اس امر کی طرف بڑھ رہی ہے کہ بھارت افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے۔

بھارت کوڈم اڈم استحکام سے لے کر جہاں افغانستان کی سرزمین کو بیس کیمپ بنائے ہوئے تھے ، وہ خفیہ طور پر ایران کے راستے میں بھی موجود تھا ، بچپن کے سرگرم سرگرمیوں میں یہ ایک واضح مثال ہے جس کا واضح مثال جاسوس کلبھوشن یادیو ہے۔ دہشت گردی کو فروغ دینے کے کام کرنا تھا۔ جس طرح سے بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں آئے دن ہونے والے دہشت گردی کی واقعات رونما سے رہتے ہیں۔

اس سے تاثرکو تقویت ملتی ہے کہ ہندوستان یہاں جاسوسی اور دہشت گردی سے دور رہ گیا ہے۔ جب تک مقامی سہولت کاروں کی مدد حاصل نہیں ہوسکتی ہے تو کسی کو بھی بیرونی قوت نہیں مل سکتی ہے۔ یہ نقل و حمل ہے جو سیکیورٹی سے متعلق ہے۔

ادھر بھارت کی دہشت گردی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کی کاروائیاں تیزی سے ہوئیں اور بے گناہ کشمیریوں کو شہید خوف اور ہراس پھیلائیں جس کا حالیہ مثال مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں سامنے آیا ہے۔ فورسز ایک 60 سالہ شخص کی گاڑی سے کلرک پر 3 سال کی نواسے میں ہمیشہ کے لئے رہتے ہیں ، نانا کی لاش پر بیٹھ کر کی مدد ہوتی ہے اور اس کی مدد کی جا سکتی ہے جس کی پوری دنیا کو نظر آتی ہے۔ اور درندگی کوآشکارکر نے کہا کہ اس تحریک آزادی کو دبانے کی حد تک جاسکتی ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ان کا کہنا تھا کہ ’’ مجھے کشمیریوں کے درد اور بے یارومددگار کو بیان کرنے کی بات نہیں ملتی۔ ‘‘

کشمیر میں قبولیت اقلیت میں بدلنا جیسا کہ ہندوستانی منصوبہ خط میں امن ہے۔ مقبوضہ وادی میں بارش پانچ اگست سے لاک ڈاؤن جاری ہے ، کشمیریوں کا جینا دوبھر ہوچکا ، علاقے میں پینے کی اشیا اور ادویات کے واقعات کے علاوہ باہمی رابطے بھی انٹرنیٹ کا استعمال ممنوع قرار پایا ہے۔ جب کشمیری بے جا پابند کھانے کی دکانوں پر احتجاج کرتے ہیں تو ہندوستانی فوج ان پرگولیاں برسانے سے بھی دریغ نہیں ہوتی۔

مودی سرکار نے آرٹیکل 370 اور 35 کے ساتھ حتمی طور پر مقبوضہ کشمیر کا خصوصی علاقہ بھی ختم کردیا تھا اس کے بعد کی ہندوستانی کوئی بھی ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں آکر سکونٹ اختیار اور لڑکے نہیں ہے۔ یہ حق حاصل کر رہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں زمین کی خریداری ، گھر بنائے یا کاروبار کرنے والا اور اس کے لئے مودی حکومت موجود ہے جس کا وہاں موجود ڈومیسائل بھی تھا اور یہ بنیادی طور پر آرٹیکل 370 اور 35 اے کوٹ کو ختم کرنے کی بات ہے۔ ملازمین بھی منصوبہ بندی کرتے ہیں ، وہ اسرائیل کے نقش قدم پر چل رہے ہیں مقبوضہ کشمیر میں ہندوآبادکاری میں مشغول ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں دھواں دھڑ ہنستا منتقل ہو گیا جنوری کوٹ ڈومیسائل جاری رہا جب اس نے خود بخود کاغذات بنائے اور اس طرح کے واقعات ، اقلیت میں بدلنے والے عمل پیرا اور پھر جب یہ ریکارڈ ریکارڈ کیا گیا تو مقبوضہ تھا۔ کشمیریوں میں اقلیت کی تبدیلی کی سرگرمیاں ، سات دہائیوں میں ریفرنڈم کوٹالین والی حکومت خوشی خوشی کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے پر بھی راضی ہوگئی۔

بھارت میں سلامتی کونسل کی روشنی میں صرف اتنے ہی فوجی درد کا حق ہے جو قیام امن کے سلسلے میں ہے اور یہ تعداد 8 لاکھ تجاوزکرکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں پچھلے دس سالوں میں اسی ہزار نئی قبروں میں اضافہ ہوا ہے جس پر شہداء کا نام اور پتے درج ہیں۔ یہ ثابت قدمی ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں قتل وغارت کا بازارگرام کر دیا ہے۔ ایک جمہوری ملک کے دعویدارکی شہریوں کا مسئلہ کشمیر کا مسئلہ جمہوری انداز سے تھا لیکن یہ ہمیشہ جمہوری ہتھکنڈوں کے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش نہیں کرتا تھا۔ ہندوستانیوں کو سمجھنے کی بات ہے کہ اس کی بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے پر عالمی برادری کو کوشاں ہے۔

آر ایس ایس اور بی جے پی اتحاد اور غیر قانونی وغیر انسانی اقدام اور انتہا پسندی بالخصوص ہندو توا ایجنسی کے سرجنجام دیئے جانے والے ظالمانہ ہتھکنڈوں نے ہندوستانی کوڈینیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ ہندوستان کو کو سمجھنے کے لئے کہ یہ بربریت کاشمیری استعمال کرنے والے عزم کو ٹورسٹکٹی ہیں اور اس کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا ہی ہندئ ریاستی دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

کشمیریوں نے اپنے خون سے وابستہ کشمیر کی تقسیم برصغیرکا نامکمل ایجنڈا ہے ، بھارت وادی کشمیر پر اپنا ناجائزقبضہ مزید تحقیقات نہیں کرنا ہے۔ عالمی طاقتوں کا عالمی معاشی استحکام دوسرے ملکوں میں فوجی یا سیاسی مداخلت ہے اور اس وقت عالمی ضابطے بالائے طاق کی ضمانت ہے اور اس کا مسئلہ بھی کم سے کم ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت دوطرفہ ناکام ہوگیا حل سے۔

کیا صرف نریندر مودی کشمیریوں پر ظلم وستم رواج پڑتا ہے ، اس کا جواب نفی میں ہے ، درہقیقت کا سب سے زیادہ برسات میں بھارت کو کبھی بھی کوئی صدق دل نہیں آتا ہے۔ ہندوستان کے پنڈت جواہرات لعل نہرو نے قیام پاکستان سے پہلے کچھ عرصہ پہلے ایک واقعی ڈپلومیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت مسٹرجناح کا سفر پاکستان تسلیم کیا جائے گا لیکن پھر بتدریج کے منتظر ہیں۔ ‘حالات’ آخری وقت دیں گے اور ہم خود ہی درخواست کریں گے کہ پاکستان کو دوبارہ ہندوستان میں شامل کیا جا کشمیر اور کشمیر پر بھارت کے دانتصبانہ تسلط کا پاکستان جاں بحق ہو گا۔

یہ پاکستان کی زرعی اور معاشی معیشت کی تمام تر دارومدارک صورتحال سے باہر نکل گیا ہے اور اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ جغرافیائی محل وقوع کی پاکستان سے رجوع کرتی ہے ، یوم کشمیر پر قبضے کی سازش کا پاکستان وجود ہے۔ سالمیت کے آخری ہندوستان کی جارحانہ عزائم کی علامت بھی۔

سچائی یہ ہے کہ کشمیریوں کو خود ارادیت اقوام متحدہ نے قبول کیا اور کبھی بھی ترک نہیں کریں گے اور پاکستان کا سفر اور خود ان کا حق خود ارادیت کی حمایت کی جائے گی جب کبھی ان کا مقابلہ نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستانی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو ہم باہمی اتحاد وکجہتی سے سکھا فاش دے سکتے ہیں ۔اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھارت کو بے لگام نہیں چھوڑنا چاہتے پاکستان میں دہشت گردی کا پس منظر میں بھارت کا کردار اور مقبوضہ کشمیر میں اس مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نوٹس لے۔



Source by [author_name]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here