کرکٹ کو کو ئیلیے ایسوسی ایشنز کا اسٹرکچر ہی حل ہے ، مصباح ، اظہرعلی اور حفیظ کو سمجھا سمجھا سمجھا ، اصلاحات ہوں تو کچھ معاملات پیش پیش ہیں۔
۔ فوٹو: فائل

کرکٹ کو کو ئلیے ایسوسی ایشنز کا اسٹرکچر ہی حل ہے ، مصباح ، اظہرعلی اور حفیظ کو سمجھا سمجھا ہوا ، اصلاحات ہو رہی ہیں کچھ معاملات پیش پیش ہیں۔
۔ فوٹو: فائل

لاہور: امید کی آخری کرن بھی ماوسسی کے اندھیروں میں گم ہو گئی جب ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی واپسی کی سرکین کرکٹرز کے ہاتھوں خالی رہائش پزیر ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی ، اجلاس ایگزیکٹو وسیم خان ، کرکٹ ٹیم کے ممبر وسیم اکرم ، ہیڈ کوچ و حمل سلیکٹر مصباح الحق ، قومی ٹیم ٹیم کے کپتان اظہر علی اور آل راؤنڈر محمد حفیظ سے ملاقات کی۔

سابقہ ​​اور کپتانوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کے اسٹرکچر کے بارے میں کچھ باتیں نہیں کیں ، ڈپارٹمنٹس نے بحالی کا ذکر کیا ، کریکٹرز نے کہا کہ بے روزگاریوں کے بعد جب وہ تشخیص کر رہے تھے تو اس کا ذکر کیا تھا۔

مہمانوں نے تجویز کو مستردلہ کیا۔ بعد ازاں ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کے معاہدوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پرانا سسٹم ختم ہونے سے پہلے والی والی مشکلات کا انداز ہے ، لیکن ملکی کرکٹ کو درست کرنا ہے کہ وہ صوبائی ایسوسی ایشنز ہی واحد حل ہے۔

اس دنیا میں کسی بھی ملک میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا ہے۔ جتنی کے مقابلے میں فضا ہو گی اور اس سے کہیں زیادہ بہتر کریکٹرز سامنے آئیں گے ، جس ملک میں سسٹم کے مقابلے میں کوسٹا ہوگا اور میرٹ کوٹ اوپر لے جائیں گے۔

اس نے آسٹریلیا ڈینیائے کرکٹ کی سب سے زیادہ ٹیموں کی ٹیم بنا رکھی ہے ، جس کا سبب بننا ہے ، دنیا کا سب سے بڑا اسٹسٹ کرکٹ کوکشاش اور لوگوں کے سامنے ہے۔

عمران خان نے ہمیشہ یہ نہیں کہا کہ ہم نے کرکٹ کا اسٹرکچر درست کر لیا ہے ، لیکن ہمارا مقابلہ نہیں ہوسکتا ہے ، لیکن 40 سالوں میں اس کا نظام بدلا جاتا تھا ، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے اسے کیا تبدیل کردیا؟

اس نے مصباح الحق ، اظہر علی اور محمد حفیظ کو سمجھایا کے بارے میں بتایا ہے کہ جب اس میں کوئی اصلاحات ہو رہی ہیں تو اس کا کوئی نتیجہ نہیں ہے ، صرف ڈومیسٹک اسٹرکچر میں ملکی ٹیلنٹ پالش ہے۔ پاکستانی ٹیم دنیا میں میرا خواب ہے کہ آئندہ ورلڈکپ میں ہمارا ٹیلنٹ نظر آتا ہے۔

یاد رہے کہ مصباح الحق ، اظہر علی اور محمد حفیظ سوئی ناردرن گیس ، سابق کپتان وسیم اکرم پی آئی کے ساتھ منسلک ہیں ، صوبائی ایسوسی ایشن کی ٹیموں کا سسٹم لائے جانے کی وجہ سے ڈپارٹمنٹس میں ایک ہزار سال کی عمر کے کریکٹرز بے روزگار تھے۔

دورہ انگلینڈ سے واپسی پر لاہور میں ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصباح الحق نے ڈپارٹمنٹل کھلاڑیوں کے مسائل کا ذکر کیا ، اس کے بعد آذان کرکٹ کے ممبر عمر گل اور پھر محمد حفیظ نے بھی بے روزگاری کریکٹرز کے حق میں آواز بلند کی۔ سابق کپتانوں کو اسلام آباد سے خالی ہاتھ واپس آنا پڑا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here