دس سال قبل شروع ہونے والے کچھ منصوبوں کے تحت دنیا بھر میں ٹائیگر کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

دس سال قبل شروع ہونے والے کچھ منصوبوں کے تحت دنیا بھر میں ٹائیگر کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

نیپال: اگر آپ نایاب جانوروں کے تحفظات سے پریشان رہتے ہیں تو آپ ان پانچ ممالک سے رہتے ہیں جو نایاب ٹائیگر کی رہائشی دکانوں میں ہوسٹلہ افزا اضافے کی خبر ہے۔

انسانوں کے تحفظ کے ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھوٹان ، چین ، بھارت ، روس اور نیپال میں پائے جانے والے جنگلی ٹائیگر کی تعداد تیزی سے گھڑ چکے ہیں ، لیکن اس سے پہلے دس سال قبل ایک منظم منصوبے کے سبھی ممالک میں ٹائگر کی رہائش گاہ تھی۔ کوٹ میں اضافہ ہوا ہے۔

سال 2010 میں ٹی ایکس ٹو ٹو نامی مہم کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے دنیا کے 13 ممالک قدرتی ماحول میں ٹائگر کی کل تعداد 3200 ہی رہائش پذیر تھے اور منصوبے کے تحت 2022 تک اس آبادی کو دوگنا کرنا ضروری ہے۔ پروگرام ختم ہونے سے پہلے دوسری اچھی خبریں آرہی ہیں۔

2009 میں صرف 121 ٹائیگر سے پتہ چلتا ہے اور 2018 میں ان کی تعداد 235 نوٹ ہے۔ اس وقت ہندوستان میں ٹائگر کی تعداد 2600 سے 3350 کے درمیان جاپانی جیونچی ہے 2006 کی تعداد سے دوگنا ہے۔

ڈبلیو بلو ڈبلیو ایف نے بتایا کہ نیپال کے صرف ایک مسکن ، بارڈیا نیشنل پارک میں 2008 میں ٹائیگر کی تعداد 18 تھی جو اب 87 تک پہنچ چکی ہے۔

روس میں دس برس تک ٹائیگر کی تعداد میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد جانوروں کی نوٹ بندی ہوتی ہے۔ بھوٹان کے ایک رائل مناسب پارٹ میں ٹائگروں کی تعداد 10 سے 22 ہوچکی ہے۔

سال 2010 میں چین میں ٹائیگر کی تعداد 20 سے زیادہ تھی اور اب اس کی نسل میں خیزی میں اضافہ ہوا تھا۔ اس طرح ہمارا مقابلہ کرنا ممکن ہے اس نایاب ترین جانوروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اب بھی شکاریوں اور قدرتی مسکنوں سے ان کے بقا کوٹے خطرے سے دوچار ہیں۔

واضح ہے کہ ٹی ایکس ٹو ٹاپ پروجیکٹ کے تحت سب سے زیادہ توجہ اس ٹائگر کی قدرتی ماحول اور مسکن کو تحفظ دی گئی ہے اور دوسرے مرحلے میں ان کا شکار ہے اور اسمگلنگ کو روکا ہے۔ ان دونوں تدابیر کے عمل کو جلدی سے معیدوم سے ٹائگر کی حفاظت میں مدد ملی۔



Source by [author_name]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here